یلاپور:23؍ڈسمبر (ایس او نیوز) ملک کے لئے ترقی بہت ضروری ہے ، مگر کسی کا گھر جلا کر کسی اور کے گھر میں روشنی نہیں کی جاسکتی ۔ اسی طرح اگر کشمیر کے لوگوں کو دہشت گردی کا سامنا ہے تو اترکنڑا ضلع کی عوام کو نیوکلئیر پاور کا خطرہ درپیش ہے۔ 21ویں اترکنڑا ضلع کنڑا ساہتیہ سمیلن کے صدر ڈاکٹر ضمیر اللہ شریف نے افتتاحی پروگرام کی صدارت کرتےہوئے ان خیالات کااظہار کیا۔
22ستمبر 2018بروز سنیچر کو یلاپور میں شروع ہوئے 21ویں کنڑا سمیلن میں ڈاکٹر ضمیر اللہ نے اپنے پر مغز خطاب میں ملک کے سلگتے ہوئے مسائل پر دوٹوک انداز میں ادب کے حوالے سے اپنی بات رکھتے ہوئے کہاکہ اترکنڑا ضلع کے کائیگا میں حکومت مزید دو مراکز کے قیام کے منصوبے کی تیاری میں ہے تمام کو اس کی سخت مخالفت کرنی چاہئے۔ سی برڈ بحریہ اڈےکے لئے جن لوگوں نے اپنی زمینات کی قربانی دی ہے ان متاثرین کو سہولیات فراہم کئے جانےکا مطالبہ کیا۔ فاریسٹ اتی کرم داروں کو جتنا جلد ہوسکے اتنی جلدی انہیں زمینی دستاویزات کی مانگ کی۔
موجودہ نفرت آمیز ماحول پر کڑی تنقید کرتے ہوئے انہوں نےکہاکہ ایک گھر کی مانند ہمارے سماج میں خلیج پیدا کرنےکی مختلف طریقوں سے کوششیں کی جارہی ہیں، دباؤ بنایا جارہاہے، لیکن ہمیں جھکنا نہیں چاہئے ، بلکہ ہم سب کو متحد ہوکر آگے بڑھنا ہے، زعفرانی اور سبز رنگ کو یپش کرتے ہوئے فساد پھیلا یا جارہاہے مگر ان دونوں رنگوں کا اصل سفید رنگ ہے، یعنی سب کو امن وشانتی سے صحت مند زندگی بسرکرنے کی علامت ہے ہم آپس میں دیواریں کھڑی نہ کریں ۔ کوئی دھرم ایسا نہیں ہے جو دوسرے دھرموں کے متعلق نفر ت کی بات کرتا ہے۔
افتتاحی کلمات پیش کرتے ہوئے ساہتیہ پریشد کے ضلعی صدر اروند کرکی کوڑی نے اجلاس کے انعقاد کے مقاصد، غر ض و غایت پر روشنی ڈالی۔ کتاب گھر کا افتتاح کرنےکے بعد تعلقہ پنچایت صدر بھویا شٹی نےکہاکہ انسان صرف اد ب کے ساتھ زندگی گزار سکتاہے، بہترین سماج کی تشکیل ، راحت بھری زندگی ادب کی منزل ہے ، لیکن سیاست میں بہت مشکل ہے کیونکہ جتنی پیچیدگیاں اور ہنگامے ہوتےہیں سیاست دانوں کے لئے اتنا ہی اچھا ہوتاہے۔
کنڑا پرچم کو منتقل کرنے کے بعد سابق سمیلن کے صدر ماسکیری ایم کے نایک نے کنڑا زبان کے کلاسیکل شاعر پمپا کے پیش کئے ہوئے خیال کے مطابق سرسی اور یلاپور آج بھی اپنی رونق پر قائم ہے تو بنواسی اپنی چمک کھو جانےپر افسوس کا اظہارکیا۔ اس موقع پر کئی کنڑا کتابوں کا اجراء ہوا۔ یکش گانا ، مختلف دیہی فنون پر منحصر رقص وغیرہ کو فن کاروں اور طلبا نے پیش کیا۔ تحصیلدار ڈی جی ہیگڈے نے استقبال کیا تو کنڑا کے سنئیر ادیب نا ڈیسوزا سمیت ادباء و شعراء موجود تھے۔